ترک سیاست سے سیکولر ازم کا بتدریج خاتمہ کیسے ہو رہا ہے؟ 1920 سے 1940 کے وسط تک ترک ریاست جارحانہ سیکولر قوم پرستی کا شکار رہی جو کہ مقبول ترک قوم پرستی یعنی اسلام پسندی سے مختلف ہے یہ وہ دور تھا جب مذھبی بنیادوں پر قائم کیے گئے معقول دلائل بھی مسترد کر دیے جاتے تھے. یہاں تک کہ مذہبی لیڈروں نے بھی اپنے دلائل اور نظریات مقبول عام کرنے کے لئے سیکولر یا نسل پرست اصطلاحات کا سہارا لیا. مگر ١٩٥٠ میں ابھرتی جمہوریت نے ریاستی اشرافیہ کو ووٹ کی خاطر مقبول مذہبی جذبات ایک حد تک ابھارنے پر مجبور کر دیا. ١٩٨٠ میں ترکی کی ریاستی اشرافیہ نے ترک اسلامی نظریے کو ریاستی نظریے کے طور پر قبول کر لیا اور سوائے چند ایشوز کے جن میں حجاب بھی شامل ہے ،اسلام مخالف بیان بازی اور پالیسیاں بتدریج کم ہونا شروع ہو گئیں. ١٩٩٠ سے ٢٠٠٠ تک سیکولر ازم میں مزید کمی آتی گئی . اور ترکی میں اتا ترک کے دور میں بننے والی پیپلز ری پبلکن پارٹی یعنی CHP جیسی جماعت جو ترکی کے فرانسیسی طرز کے سیکولرزم کی حامی رہی ہے نے بھی مذہبی بیان بازی کی طرف رجوع کر لیا ہے. یہ پارٹی ایک ا...